11 اشعار

جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیں

Jo aastaan se tere lau lagaye baithe hain

جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیں

«جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیںخدا گواہ، وہ دنیا پہ چھائے بیٹھے ہیں

چمک رہی ہیں جبینیں ترے فقیروں کیتجلّیات کے سہرے سجائے بیٹھےہیں

خدا کے واسطے اب کھول اُن پہ بابِ عطاجو دیر سے تری چوکھٹ پہ آئے بیٹھے ہیں

جلائے گی اُنہیں اب کیا چمن میں برقِ فلکجو آشیانہء ہستی جلائے بیٹھے ہیں

بڑے بڑوں کے سَروں سے اُتر رہا ہے خُماروہ آج خیر سے محفل پہ چھائے بیٹھے ہیں

جہاں بھی جائیے اُن کے سِتم کا چرچا ہےوہ ساری خلق میں طوفاں اُٹھائے بیٹھے ہیں

مجال ہےجو کوئی لب ہِلے سرِ محفلوہ ایک ایک کو آنکھیں دِکھائے بیٹھے ہیں

یہ ایک ہم ہیں کہ اپنوں کے دِل نہ جیت سکےوہ دشمنوں کو بھی اپنا بنائے بیٹھے ہیں

اجل بھی ہم کو اُٹھانے پہ اب نہیں قادریہاں ہم آج کسی کے بِٹھائے بیٹھے ہیں

وفا کے نام پہ، دشمن کا امتحاں بھی سہیکہ دوستوں کو تو ہم آزمائے بیٹھے ہیں

نصؔیر! ہم میں تواپنوں کی کوئی بات نہیںکرم ہے اُن کا، جو اپنا بنائے بیٹھے ہیں

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں