24 اشعار

نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانے

Nikal gaye hain khirad ki hadon se deewane

نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانے

«نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 54 سیکنڈ ہے۔

نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانےاب اہل ہوش سے کہہ دو نہ آئیں سمجھانے

بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقیفضا خموش سبو چپ اداس پیمانے

یہ کس کے غم نے دلوں کا قرار لوٹ لیایہ کس کی یاد میں سر پھوڑتے ہیں دیوانے

بھری بہار کا منظر ابھی نگاہ میں تھامری نگاہ کو کیا ہو گیا خدا جانے

ہے کون بر لب ساحل کہ پیشوائی کوقدم اٹھائے بہ انداز موج دریا نے

تمام شہر میں اک درد آشنا نہ ملابسائے اس لیے اہل جنوں نے ویرانے

نہ اب وہ جلوۂ یوسف نہ مصر کا بازارنہ اب وہ حسن کے تیور نہ اب وہ دیوانے

نہ حرف حق نہ وہ منصور کی زباں نہ وہ دارنہ کربلا نہ وہ کٹتے سروں کے نذرانے

نہ بایزید نہ شبلی نہ اب جنید کوئینہ اب وہ سوز نہ آہیں نہ ہا و ہو خانے

خیال و خواب کی صورت بکھر گیا ماضینہ سلسلے نہ وہ قصے نہ اب وہ افسانے

نہ قدرداں نہ کوئی ہم زباں نہ انساں دوستفضائے شہر سے بہتر ہیں اب تو ویرانے

بدل گئے ہیں تقاضے مزاج وقت کے ساتھنہ وہ شراب نہ ساقی نہ اب وہ مے خانے

تمام بند جنوں توڑ بھی گیا لیکنانا کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں فرزانے

یہ انقلاب کہاں آسماں نے دیکھا تھاالجھ رہے ہیں غم زندگی سے دیوانے

ہر ایک اپنے ہی سود و زیاں کی فکر میں ہےکوئی تو ہو جو مرے دل کا درد پہچانے

ترا وجود غنیمت ہے پھر بھی اے ساقیکہ ہو گئے ہیں پھر آباد آج مے خانے

وہی ہجوم وہی رونقیں وہی میکشوہی نشہ وہی مستی وہی طرب خانے

جبیں کو در پہ ترے رکھ دیا یہی کہہ کریہ جانے اور ترا سنگ آستاں جانے

اٹھیں گے پی کے تری مے نواز آنکھوں سےیہ طے کیے ہوئے بیٹھے ہیں آج دیوانے

ہے تیری ذات وہ اک شمع انجمن افروزکہ جس کی لو پہ لپکتے رہیں گے پروانے

کوئی نشاط کا ساماں کوئی طرب کی سبیللگی ہے پھر سر مے خانہ بدلیاں چھانے

تو بولتا ہے تو چلتی ہے نبض میخانہتو دیکھتا ہے تو کرتے ہیں رقص پروانے

یہ مستیاں نہیں جام و سبو کے حصے میںتیری نگاہ سے پتے ہیں تیرے دیوانے

نصیرؔ اشک تو پلکوں پہ سب نے دیکھ لیےگزر رہی ہے جو دل پر وہ کوئی کیا جانے

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں