10 اشعار

ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کی

Thaan li maine bhi saaqi yahin mar jaane ki

ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کی

«ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کی» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کیکتنی دل کش ہیں فضائیں تیرے مے خانے کی

واہ کیا خوب نشانی ہے یہ مے خانے کیدل میں تصویر کھنچی رہتی ہے پیمانے کی

صرف غم خاک بسر چاک گریباں مضطرقابل رحم ہے صورت تیرے دیوانے کی

چاند بدلی میں دیکھا تو مجھے یاد آیااس میں بھی ایک جھلک ہے ترے شرمانے کی

یاد آتی ہیں کسی کی وہ نشیلی آنکھیںدیکھ کر شکل چھلکتے ہوئے پیمانے کی

نزع کے وقت مبادا کوئی الزام آ جائےاس گھڑی آپ نہ تکلیف کریں آنے کی

تو سلامت رہے گلشن کی بہاریں دیکھےیہ دعا ہے دم آخر تیرے دیوانے کی

رند بد مست کی توبہ بھی کوئی توبہ ہےٹوٹ جائے گی چھلک دیکھ کے پیمانے کی

میں وہ ذرہ ہوں جو ہے مہر علی سے روشنکس قدر مجھ پہ عنایت میرے مولا نے کی

آگ کا رزق ہے وہ سوختہ قسمت بھی نصیرؔشمع تصویر ہے جلتے ہوئے پروانے کی

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں