7 اشعار

لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی

Ladkhadate Hue Bhi Aur Sambhalte Hue Bhi

لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھیاس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھی

عشق آثار تھی ہر راہ گزر اس کی تھیہم بھٹک سکتے نہ تھے راہ بدلتے ہوئے بھی

عشق ہے عشق بہ ہر حال نمو پائے گایعنی جلتے ہوئے بھی اور پگھلتے ہوئے بھی

زندگی تیرے فقط ایک تبسم کے لیےہم کہ ہنستے ہی رہے درد میں ڈھلتے ہوئے بھی

ایک مدت سے ہیں ہم عشق میں آوارہ بکاریعنی اک عمر ہوئی پھولتے پھلتے ہوئے بھی

سلسلہ تجھ سے ہی تھا تیرے طلب گاروں کابرف ہوتے ہوئے بھی آگ میں جلتے ہوئے بھی

بن ترے ایسا اندھیرا تھا مرے اندر یارڈر لگا عشق کے سورج کو نکلتے ہوئے بھی

— پیرزادہ قاسم