7 اشعار

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

Kab mera nasheman ahl-e-chaman gulshan mein gawara karte hain

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

«کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے وقاراحسن نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیںغنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لوجب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کے آ نہ سکےدو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں

بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شب فرقت والوں سےوہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں

پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دوسنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں ہے بھی تو فقط رسوائی کاتم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں

تاروں کی بہاروں میں بھی قمرؔ تم افسردہ سے رہتے ہوپھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں