6 اشعار

باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح

Bagh-e-alam mein rahe shadi-o-matam ki tarah

باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح

«باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرحپھول کی طرح ہنسے رو دئے شبنم کی طرح

شکوہ کرتے ہو خوشی تم سے منائی نہ گئیہم سے غم بھی تو منایا نہ گیا غم کی طرح

روز محفل سے اٹھاتے ہو تو دل دکھتا ہےاب نکلواؤ تو پھر حضرت آدم کی طرح

لاکھ ہم رند سہی حضرت واعظ لیکنآج تک ہم نے نہ پی قبلۂ عالم کی طرح

تیرے انداز جراحت کے نثار اے قاتلخون زخموں پہ نظر آتا ہے مرہم کی طرح

خوف دل سے نہ گیا صبح کے ہونے کا قمرؔوصل کی رات گزاری ہے شب غم کی طرح

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں