5 اشعار

بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے

Bosa-e-khal ki qeemat meri jaan thehri hai

بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے

«بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے رابعہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہےچیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے

چھیڑ کر پھر مجھے مصروف نہ کر نالوں میںدو گھڑی کے لیے صیاد! زباں ٹھہری ہے

آہِ پُر سوز کو دیکھ اے دلِ کمبخت نہ روکآگ نکلی ہے لگا کر، یہ جہاں ٹھہری ہے

صبح سے جنبشِ ابرو و مژہ سے پیہمنہ تِرے تیر رکے ہیں، نہ کماں ٹھہری ہے

دم نکلنے کو ہے، ایسے میں وہ آ جائیں قمرؔصرف دم بھر کے لیے روح رواں ٹھہری ہے

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں