7 اشعار

شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں

Shaikh aakhir yeh surahi hai koi khum to nahin

شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں

«شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیںاور بھی بیٹھے ہیں محفل میں ہمیں تم تو نہیں

نا خدا ہوش میں آ ہوش ترے گم تو نہیںیہ تو ساحل کے ہیں آثار تلاطم تو نہیں

ناز و انداز و ادا ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسیتیری تصویر میں سب کچھ ہے تکلم تو نہیں

دیکھ انجام محبت کا برا ہوتا ہےمجھ سے دنیا یہی کہتی ہے بس اک تم تو نہیں

مسکراتے ہیں سلیقے سے چمن میں غنچےتم سے سیکھا ہوا انداز تبسم تو نہیں

اب یہ منصور کو دی جاتی ہے ناحق سولیحق کی پوچھو تو وہ انداز تکلم تو نہیں

چاندنی رات کا کیا لطف قمرؔ کو آئےلاکھ تاروں کی بہاریں ہیں مگر تم تو نہیں

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں