8 اشعار

سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے

Sawal chhod ke halat yeh kyun banayi hai

سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے

«سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہےاسے نہ سن جو کہانی سنی سنائی ہے

پتنگا شمع پہ مرتا ہے کیا برائی ہےاسے کسی نے بھی روکا ہے جس کی آئی ہے

ہنسے ہیں گل نہ کلی کوئی مسکرائی ہےحضور کیسے یہ کہہ دوں بہار آئی ہے

ضرور کوئی علامت قضا کی پائی ہےمجھے عزیزوں نے صورت تری دکھائی ہے

نہ جانے ہجر کی رات اور مری سیہ بختیکہاں کہاں کے اندھیرے سمیٹ لائی ہے

لحد سے کب اٹھیں دیکھو مسافران عدمسفر ہے دور کا رستے میں نیند آئی ہے

اسیر کیا کہیں صیاد یہ تو سمجھا دےقفس میں بوئے چمن پوچھنے کو آئی ہے

مجھے نہ چھیڑ قیامت ہے میری آہوں میںخدا رکھے تری محفل سجی سجائی ہے

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں