6 اشعار

بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دے

Bana hoon main aaj tera mehmaan koi adoo ko khabar na kar de

بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دے

«بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے امید صبح نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دےاٹھا کے وہ تیری انجمن سے کہیں مجھے در بدر نہ کر دے

یہ وصل کی رات ہے خدارا نقاب چہرے سے مت ہٹاؤتمہارے چہرے کا یہ اجالا سحر سے پہلے سحر نہ کر دے

قسم جسے ضبط غم کی دے کر اٹھا دیا اپنے در سے تو نےکہیں وہ دیوانہ عمر اپنی بغیر تیرے بسر نہ کر دے

بڑے مزے سے میں پی رہا ہوں مری طرف تم ابھی نہ دیکھومجھے یہ ڈر ہے نظر تمہاری شراب کو بے اثر نہ کر دے

ستایا جس کو ہمیشہ تو نے سدا اکیلا جو چھپ کے رویاوہ دل‌ جلا اپنے آنسوؤں سے تمہارا دامن بھی تر نہ کر دے

قتیلؔ یہ وصل کے زمانے حسین بھی ہیں طویل بھی ہیںمگر لگا ہے یہ دل کو دھڑکا انہیں کوئی مختصر نہ کر دے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں