9 اشعار

مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے

Mujh ko dekhne wale tu kis dhyaan mein hai

مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے

«مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے خوشی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہےآخر کیا مشکل میری پہچان میں ہے

اپنےہجر کے پسِ منظر میں جھانک مجھےمیری سب روداد اِسی عنوان میں ہے

کب سننے دیتی ہے شور سمندر کاپانی کی اِک بوند جو میرے کان میں ہے

بن سوچے سمجھے تو ثیق نہیں کرتاکفر وہ شامل جو میرے ایمان میں ہے

ٹانک دو اس میں اِک مصنوعی تتلی بھیکاغذ کا جو گلدستہ گلدان میں ہے

حجرے میں گر کوئی بات ہوئی تو کیاتھوڑا ساشیطان تو ہرانسان میں ہے

شوق تو یہ ہے آج کے فاتح کہلائیںجنگ ابھی تک ماضی کے میدان میں ہے

پچھلی تحریروں کو بھول کے اے شاعرتیرا نیا قصیدہ کس کی شان میں ہے

جس کے لیے میں غزلیں کہتا رہا قتیلاُس کا سارا حسن میرے دیوان میں ہے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں