6 اشعار

یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دے

Ya Rab saari jheelon ko aaina kar de

یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دے

«یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 7 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دےیا پھر چاند ستاروں کو نابینا کر دے

ختم ھوُا جاتا ھے سارا حُسن غزل کاآنکھوں کو ساغر جسموں کو مِینا کر دے

جس پیشانی پر سوُرج نے دیا ھے بوسہاُس پیشانی کا گُل رنگ پسینہ کر دے

ھِجر کا غم وہ جادوُگر ھے پریِت نگر کاجو دن کو پھیلائے اور مہینہ کر دے

برسیں پھوُل تو دُنیا حق جتلائے اپناتِیر چلیں تو آگے میرا سینہ کر دے

باتیں بہت قتیل مگر اِس ڈر سے چُپ ھوُںیہ واعظ دُشوار نہ میرا جینا کر دے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں