7 اشعار

میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا

Main ne poocha pehla patthar mujh par kaun uthaye ga

میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا

«میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گاآئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گا

پوچھ سکے تو پوچھے کوئی روٹھ کے جانے والوں سےروشنیوں کو میرے گھر کا رستہ کون بتائے گا

ڈالی ہے اس خوش فہمی نے عادت مجھ کو سونے کینکلے گا جب سورج تو خود مجھ کو آن جگائے گا

لوگو میرے ساتھ چلو تم جو کچھ ہے وہ آگے ہےپیچھے مڑ کر دیکھنے والا پتھر کا ہو جائے گا

دن میں ہنس کر ملنے والے چہرے صاف بتاتے ہیںایک بھیانک سپنا مجھ کو ساری رات ڈرائے گا

میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرناگالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔتیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں