7 اشعار

اِک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے

Ik baar jo tak le use takta hi chala jaaye

اِک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے

«اِک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

اِک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائےشعلہ سا بدن اس کا دہکتا ہی چلا جائے

کردار ادا جب میں کروں بادِ صبا کاوہ پھول کی مانند مہکتا ہی چلا جائے

حالات کی بجلی نے کیا راکھ نشیمنپر آس کا پنچھی کہ چہکتا ہی چلا جائے

آ جائیں میسر جسے آنکھوں کے وہ ساغروہ رِند تو پی پی کے بہکتا ہی چلا جائے

پھولوں کو توقع ہے نہ امکان ثمر کااِک پیڑ مگر پھر بھی لہکتا ہی چلا جائے

ہم لاکھ مہذب ہوں، مگر تم ہی بتاؤجب ضبط کا پیمانہ چھلکتا ہی چلا جائے

ہر گام پہ الزام قتیلؔ اب بھی ہیں، لیکناُن پانو میں بِچھوا جو چھنکتا ہی چلا جائے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں