5 اشعار

چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں

Chaara-gar, aye dil-e-betaab! kahan aate hain

چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں

«چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیںمجھ کو خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں

میں تو یک مُشت اُسے سونپ دُوں سب کچھ، لیکنایک مُٹّھی میں ، مِرے خواب کہاں آتے ہیں

مُدّتوں بعد اُسے دیکھ کے، دِل بھر آیا!ورنہ ،صحراؤں میں سیلاب کہاں آتے ہیں

میری بے درد نِگاہوں میں، اگر بُھولے سے!نیند آئی بھی تو ، اب خواب کہاں آتے ہیں

تنہا رہتا ہُوں میں دِن بھر ،بَھری دُنیا میں سعید!دِن بُرے ہوں، تو پھر احباب کہاں آتے ہیں

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں