6 اشعار

ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے

Tark-e-ulfat ka sila pa bhi liya hai main ne

ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے

«ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نےاب تو آ جا کہ تجھے یاد کیا ہے میں نے

آسکی تیری جدائی نہ کبھی راس مجھےتجھ سے بچھڑا تو یہ ہونے لگا احساس مجھے

اپنے ہاتھوں سے کوئی زہر پیا ہے میں نےگنگناتی ہے وفا روح میں رم جھم کی طرح

سامنے اپنے کھڑا ہوں کسی مجرم کی طرحآج تو شرم سے ڈھانپ لیا ہے میں نے

جو بھی شکوہ ہے بھلانا ہی پڑے گا تجھکواک نہ اک روز تو آنا ہی پڑے کا تجھکو

دل کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے میں نے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں