اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
کلام: قتیل شفائی
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کومیں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامنمیں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو
اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)
مہمان شاعر: قتیل شفائی
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کومیں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامنمیں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو
چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیںمجھ کو خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں
میں تو یک مُشت اُسے سونپ دُوں سب کچھ، لیکنایک مُٹّھی میں ، مِرے خواب کہاں آتے ہیں