رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
کلام: قتیل شفائی
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میںہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں
ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاشبوند تک بھی نہ بو سکے جو کبھی صحراؤں میں
اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)
مہمان شاعر: قتیل شفائی
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میںہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں
ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاشبوند تک بھی نہ بو سکے جو کبھی صحراؤں میں
بتاؤ کیا خریدو گے؟جوانی، حسن، غمزے، عہد، پیماں، قہقہے، نغمے
رسیلے ہونٹ، شرمیلی نگاہیں، مرمریں بانہیںیہاں ہر چیز بکتی ہے
ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نےاب تو آ جا کہ تجھے یاد کیا ہے میں نے
آسکی تیری جدائی نہ کبھی راس مجھےتجھ سے بچھڑا تو یہ ہونے لگا احساس مجھے