6 اشعار

بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگے

Basti mein hai woh sannata jungle maat lage

بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگےشام ڈھلے بھی گھر پہنچوں تو آدھی رات لگے

مٹھی بند کئے بیٹھا ہوں کوئی دیکھ نہ لےچاند پکڑنے گھر سے نکلا جگنو ہات لگے

تم سے بچھڑے دل کو اجڑے برسوں بیت گئےآنکھوں کا یہ حال ہے اب تک کل کی بات لگے

تم نے اتنے تیر چلائے سب خاموش رہےہم تڑپے تو دنیا بھر کے الزامات لگے

خط میں دل کی باتیں لکھنا اچھی بات نہیںگھر میں اتنے لوگ ہیں جانے کس کے ہات لگے

ساون ایک مہینے قیصرؔ آنسو جیون بھران آنکھوں کے آگے بادل بے اوقات لگے

— قیصر الجعفری