6 اشعار

مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا

Musafiron ka kabhi aitbar mat karna

مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرناجہاں کہا تھا وہاں انتظار مت کرنا

میں نیند ہوں مری حد ہے تمہاری پلکوں تکبدن جلا کے مرا انتظار مت کرنا

میں بچ گیا ہوں مگر سارے خواب ڈوب گئےمری طرح بھی سمندر کو پار مت کرنا

بہا لو اپنے شہیدوں کی قبر پر آنسومگر یہ حکم ہے کتبے شمار مت کرنا

ہوا عزیز ہے لیکن یہ اس کی ضد کیا ہےتم اپنے گھر کے چراغوں کو پیار مت کرنا

یہ وقت بند دریچوں پہ لکھ گیا قیصرؔمیں جا رہا ہوں مرا انتظار مت کرنا

— قیصر الجعفری