21 اشعار

ہم انتظار میں ہیں

Hum Intezaar Mein Hain

یہ سرخ جنگ جو برپا ہوئی ہے سرحد پریہ تیز آگ جو پھیلی ہے کوہساروں میں

زیادہ روز نہ چھڑکے گی وادیوں میں لہوزیادہ دیر نہ ٹھہرے گی لالہ زاروں میں

شکست کھائیں گے باد شمال کے جھونکےرگ نمو ابھی زندہ ہے شاخساروں میں

بڑے غرور سے آئے ہیں دشمنان وطنانہیں بہا دو انہی کے لہو کے دھاروں میں

جہاں سے قافلۂ نوبہار گزرے گاچراغ تم نے جلائے ہیں ان دیاروں میں

دعائیں دیں گے تمہارے بدن کے زخموں کوکھلیں گے پھول جو اگلے برس بہاروں میں

فنا نصیب ہیں دشمن کے حوصلوں کے محلانہیں ملا دو ہمالہ کے سنگ پاروں میں

جہاں سے قافلۂ نوبہار گزرے گاچراغ تم نے جلائے ہیں ان دیاروں میں

دعائیں دیں گے تمہارے بدن کے زخموں کوکھلیں گے پھول جو اگلے برس بہاروں میں

فنا نصیب ہیں دشمن کے حوصلوں کے محلانہیں ملا دو ہمالہ کے سنگ پاروں میں

ہماری روح کی آواز ہے یقین کروتمہارا نام بھی شامل ہو جاں نثاروں میں

تمہارے ہاتھ میں سب سے بلند پرچم ہوچلیں وطن کے سپاہی جہاں قطاروں میں

تمہارے ہونٹوں پہ نغمے ہوں کامرانی کےتمہارے پاؤں کی مٹی اڑے ستاروں میں

ہماری فکر نہ کرنا کہ ہم اداس نہیںوطن کے نام پہ جی لیں گے خارزاروں میں

خزاں کے زخم سے دو دن لہو ٹپکتا ہےپھر اس کی یاد بھی آتی نہیں بہاروں میں

دم وداع جو پل بھر کو دل میں جاگا تھاوہ درد ڈوب گیا آنسوؤں کی دھاروں میں

وہ اس حسین جدائی کا لطف کیا جانیںہمیں جو لوگ سمجھتے ہیں سوگواروں میں

ہم اپنے گھر میں اکیلے ہیں اور نہیں بھی ہیںتمہاری یاد کی خوشبو ہے غم گساروں میں

تمہیں قسم جو محبت کی آگ یاد آئےہمالیہ کے سمن پوش برف زاروں میں

تمہیں قسم جو ہمارا سہاگ یاد آئےمحاذ جنگ پہ تلوار کے حصاروں میں

کب آ رہے ہو لکھو فتح کا نشاں لے کرہم انتظار میں ہیں نذر جسم و جاں لے کر

— قیصر الجعفری