5 اشعار

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتی

Toote hue khwabon ki chubhan kam nahin hoti

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتیاب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتی

کتنے بھی گھنیرے ہوں تری زلف کے سائےاک رات میں صدیوں کی تھکن کم نہیں ہوتی

ہونٹوں سے پئیں چاہے نگاہوں سے چرائیںظالم تری خوشبوئے بدن کم نہیں ہوتی

ملنا ہے تو مل جاؤ یہیں حشر میں کیا ہےاک عمر مرے وعدہ شکن کم نہیں ہوتی

قیصرؔ کی غزل سے بھی نہ ٹوٹی یہ روایتاس شہر میں نا قدرئ فن کم نہیں ہوتی

— قیصر الجعفری