6 اشعار

یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں

Yoon badi der se paimana liye baitha hoon

یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوںکوئی دیکھے تو یہ سمجھے کہ پئے بیٹھا ہوں

آخری ناؤ نہ آئی تو کہاں جاؤں گاشام سے پار اترنے کے لیے بیٹھا ہوں

مجھ کو معلوم ہے سچ زہر لگے ہے سب کوبول سکتا ہوں مگر ہونٹ سیے بیٹھا ہوں

لوگ بھی اب مرے دروازے پہ کم آتے ہیںمیں بھی کچھ سوچ کے زنجیر دیے بیٹھا ہوں

زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والےمیں ابھی تک تری تصویر لیے بیٹھا ہوں

کم سے کم ریت سے آنکھیں تو بچیں گی قیصرؔمیں ہواؤں کی طرف پیٹھ کیے بیٹھا ہوں

— قیصر الجعفری