9 اشعار

اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گا

Ab ye dil bhi kisi din patthar hoga

اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گا

«اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گا» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

بحر: متدارک مربع مخلع مضاعففاعلن فَعَل فاعلن فَعَل

کافیہ : پتھر, مختصر, درردیف : ہو گا

اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گازخم سہنے کا بھی اک ہنر ہو گا

ہم نے مانا تھا جس کو عمر بھروہی لمحہ سب سے مختصر ہو گا

ریت پر نام لکھا تھا اس نےجانے کب موج کا وہ گھر ہو گا

بولنے پر بھی سزا ملتی ہےچپ رہنا بھی یہاں خطر ہو گا

کچھ تعلق جو نبھائے ہم نےان کا بوجھ عمر بھر دل پر ہو گا

آئینہ ٹوٹ کے یہ کہتا ہےہر حقیقت کا کوئی در ہو گا

ہجر کی رات میں قمرؔ نے جاناصبر ہی آخری مقدر ہو گا

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں