اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گا
کلام: راجا اکرام قمر
بحر: متدارک مربع مخلع مضاعففاعلن فَعَل فاعلن فَعَل
کافیہ : پتھر, مختصر, درردیف : ہو گا
جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ
مہمان شاعر: راجا اکرام قمر
بحر: متدارک مربع مخلع مضاعففاعلن فَعَل فاعلن فَعَل
کافیہ : پتھر, مختصر, درردیف : ہو گا
دفن اس طرح مرے دل کے مقبرے میں ہواکہ خوابِ عمر فنا یاد کے حجرے میں ہوا
وہ ایک لمسِ طلب، وہ نگاہِ نیم نگاہتمام حاصلِ ہستی اسی لمحے میں ہوا
بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دیرند سارے جھوم اٹھے افرین افرین کر دے
موضوع ہمارا بزم حسن تھا اور ہم نےحسن والوں کی حقیقت پیش سائمین کر دی
قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیںتب ان کے وعدے بھی ہم کو بہانے لگتے ہیں
نہ اختیار میں رہتا ہے دل عجیب مرایہ مان جاتا ہے، جب وہ بہلنے لگتے ہیں