5 اشعار

چھوٹا جو شہر اپنا تو پھر نہ کوئی مکاں رہا

Chhota jo shahar apna to phir na koi makaan raha

چھوٹا جو شہر اپنا تو پھر نہ کوئی مکاں رہا

«چھوٹا جو شہر اپنا تو پھر نہ کوئی مکاں رہا» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

چھوٹا جو شہر اپنا تو پھر نہ کوئی مکاں رہاحقیقتِ زیست یہ کہ میں بے نشاں رہا

گئے کل کی سنہانی یادیں، بنے سنگِ راہفکرِ کل نہیں مجھے، بس آج مہرباں رہا

ڈھونڈا دیارِ غیر میں بہت، کوئی ہمنوا نہ ملاہم سفر تو رہے بہت، مگر دوست اک گماں رہا

اے غمِ زندگی، تجھے موت کیوں نہیں آتیاک ناسور کی طرح کیوں تو مرا دشمنِ جاں رہا

شام سے پیشتر ہی لوٹ آنا گھر کو، قمرؔکہ سیاہ ابر میں بجلی کا سدا امکاں رہا

— راجا اکرام قمر