8 اشعار

دور افلاک کی محفل ستاروں میں رہتا ہے

Door aflaak ki mehfil sitaron mein rehta hai

دور افلاک کی محفل ستاروں میں رہتا ہے

«دور افلاک کی محفل ستاروں میں رہتا ہے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

دور افلاک کی محفل ستاروں میں رہتا ہےمیرے احساس کے اجالوں میں رہتا ہے

وہ ستارہ ہے جو آنکھوں میں چمکتا ہی رہےدل کے سارے ہی اُجالوں میں رہتا ہے

کوئی ان دیکھا سا رشتہ ہے مرے ہونے سے جومرے خواب کے خیالوں میں رہتا ہے

وہ نظر آتا نہیں پھر بھی یقیں بن کرمیری تنہائی کے سوالوں میں رہتا ہے

جس کی خوشبو سے معطر ہیں مرے سب لمحےوہ مرے دل کے حوالوں میں رہتا ہے

کوئی خاموش سا منظر ہے مرے اندر جوسانس لیتا ہوا حالوں میں رہتا ہے

وہ حقیقت ہے مگر خواب کی صورت مجھ میںمیرے بیدار اجالوں میں رہتا ہے

تخیلؔ قمر وہی خواب ہے جو تعبیر بنامیرے لفظوں کے اجالوں میں رہتا ہے

— راجا اکرام قمر