16 اشعار

اک جھلا شخص

Ek jhalla shakhs

اک جھلا شخص

«اک جھلا شخص» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

اک جھلا شخصوہ جھلا سا اک شخص

کتنا ادھورا لگتا ہےکتنا تنہا لگتا ہے

یونہی کبھی کچھ گنگنایونہی کبھی بس مسکرانا

یونہی کبھی شعر سناناسوچتا ہوا خیالوں میں

تکتا یونہی خلاؤں میںنیم بسمل کسی کے انتظار میں

کتنا ادھورا لگتا ہے انتظار میںبُھلا نہیں سکتا وہ اُسکو

جو اُس کے دل میں بستا ہےمجھےتنہا سا لگتا ہے

وہ جھلا سا اک شخصکتنا ادھورا سا لگتا ہے

وہ جھلی سی اک لڑکیجو ہر وقت ہنستی رہتی ہے

کتنی ادھوری لگتی ہے‏چاہتی ہے خزاں کے موسم میں

‏ بکھر جائے کسی زرد پتے کی طرح‏ اُڑ جانے بس یونہی ہواؤں میں

‏ریزہ بن کر کہیں دور خلاؤں میں‏اور بن کر آسماں کا تارا

جیسے قطب کا اک ستارہ‏بس چمکے یوں ہی ستاروں میں

روشنی بھردے ان نظاروں میں‏کبھی نہ ڈوبے

‏کبھی نہ بکھرے‏ بس امر ہو جاے!!!

وہ جھلی سی اک لڑکی

— راجا اکرام قمر