5 اشعار

ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھا

Haath mein tera haath aur sang-e-zamana tha

ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھا

«ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھا» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھاسمے جو بیت گیا کس قدر سہانا تھا

وہ زندگی بھی تو تصویر بن گئی جیسےفضا بہار کی، چڑیوں کا کیا چہچہانا تھا

تمہیں خیالوں میں رہنا ہے اس میں سنگ میرےوہ ایک مکاں ۔۔۔۔۔ جو کبھی میرا شیانہ تھا

جو ڈھونڈتا ہوں میں تصویر میں گئے کل کومزاج اپنا بھی کیسا وہ عاشقانہ تھا

یوں کرچیوں میں قمر بانٹتے ہو کیوں خود کویہ ائینہ تو فقط ۔۔۔۔آخری ٹھکانہ تھا

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں