5 اشعار

طلب دیدار یار، لہجے میں ضرور شیریں ہوگی

Talab deedar-e-yaar, lahje mein zaroor sheerin hogi

طلب دیدار یار، لہجے میں ضرور شیریں ہوگی

«طلب دیدار یار، لہجے میں ضرور شیریں ہوگی» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

طلب دیدار یار، لہجے میں ضرور شیریں ہوگیذرا سوچ گفتگو طور کس قدر حسیں ہو کے

بس اک جھلک اور ہوش و حواس کھو دینانور سے روشن گئی کلیم کی جبیں ہوگی

مسافت مقام یار کٹھن بھی ہو تو کیا ہےجستجو ہو ایسی تو منزل پہاڑوں کی قریں ہوگی

کہکشاں نے سجایا رستہ پھر اک بار خاطر محبوبعاشق و محبوب کی ملاقات یہ بھی ہوئی دل نشیں ہوگی

جو پہنچ سکے تیری اوج کو وہ پر کہاںخیال قمر کو بھی خدا قسم ایسی سوچ نہیں ہوگی

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں