میں نے لکھ دی میکدے کے نام تیرے بعد
میں نے لکھ دی مہکدے کے نام تیرے بعدیہ جو تھی اکیلی میری شام تیرے بعد
میں لکھتا نہیں کچھ لکھوا دیا جاتا ہےاب کیا کروں جو ہو جائے الہام تیرے بعد
جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ
مہمان شاعر: راجا اکرام قمر
میں نے لکھ دی مہکدے کے نام تیرے بعدیہ جو تھی اکیلی میری شام تیرے بعد
میں لکھتا نہیں کچھ لکھوا دیا جاتا ہےاب کیا کروں جو ہو جائے الہام تیرے بعد
سنا ہے چمن کا گلاب تھی وہ لڑکیسنا ہے فلک کا مہتاب تھی وہ لڑکی
سنا ہے جب وہ مسکراتی تھیچاکور چاند کو چھوڑ کر اسکی طرف اڑتا تھا
رب کرے وسیلہ کوئی تے دل دا درد تھم جاوےساون مکے اناں اکھیاں دا تے سکھ اے نم جاوے
جدو شام ویلے گھر آویں گامینوں بوہے تے تو نہ پاویں گا
ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھاسمے جو بیت گیا کس قدر سہانا تھا
وہ زندگی بھی تو تصویر بن گئی جیسےفضا بہار کی، چڑیوں کا کیا چہچہانا تھا