5 اشعار

ہائے وہ اک لمحہ ہے جدائی جو یادگار بنا

Haaye woh ek lamha hai judai jo yaadgar bana

ہائے وہ اک لمحہ ہے جدائی جو یادگار بنا

«ہائے وہ اک لمحہ ہے جدائی جو یادگار بنا» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

ہائے وہ اک لمحہ ہے جدائی جو یادگار بنااعلی ظرف رہی ذات تیری میں گنہگار بنا

رویا تو ہوگا تو بھی جدا مجھ سے ہو کرکیوں نہ تیرا حرف زباں کوئی اظہار بنا

لٹا کر مسرتیں ساری اس اک پل میںمیں بس اس کے بعد اک روح بے قرار بنا

کٹھن مسافتیں لگیں تیرا ہاتھ چھوٹنے کے بعدعجب گردش حیات کا پھر شکار بنا

جھکا رہے گا سر ندامت اب اے قمرمیں عمر بھر کے لیے اس کا شرمسار بنا

— راجا اکرام قمر