6 اشعار

بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دی

Baith kar maikade mein jo shuru hum ne talqeen kar di

بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دی

«بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دی» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دیرند سارے جھوم اٹھے افرین افرین کر دے

موضوع ہمارا بزم حسن تھا اور ہم نےحسن والوں کی حقیقت پیش سائمین کر دی

ہر اک کی اپنی سوچ تھی ہر کوئی مدعے پہ ڈٹاحسن کو بے وفا، اور عاشقوں کی کچھ نے توہین کر دی

وہ جو تھے حسن پرست، طرف حسن رہے ہر وقتوفادار کی انہوں نے بھی مثال اک بہترین کر دی

شور و غل کے سماں میں کچھ دیر سکون پانے کوکھڑی دور بوتل ہم نے اپنے پھر قرین کر دی

حضرت شیخ کیا پوچھیے ہنگامہ برپا تھا ہر طرفاس غریب قمر نے بھی تھک ہار کر بس امین کردی

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں