6 اشعار

جو سلسلہ ہی نہ ہو تو پھر وضاحتیں کیسی

Jo Silsila Hi Na Ho To Phir Wazahatain Kaisi

جو سلسلہ ہی نہ ہو تو پھر وضاحتیں کیسی

«جو سلسلہ ہی نہ ہو تو پھر وضاحتیں کیسی» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

جو سلسلہ ہی نہ ہو تو پھر وضاحتیں کیسیمیرا یار مانگے مجھ سے محبتیں کیسی

تجھ سے کیا مانگیں تجھے عزیز کوئی اورجب دل ہی نہ ملے ہوں تو شکایتیں کیسی

دشت یار میں استقبال سنگ طفلاں سے ہواجستجو یار میں ملیں ہمیں وحشتیں کیسی

وہ اتفاقا ہی کوچے سے ترے گزر ہوا تھا مرامنسوب مجھ سے پھر یہ تری حکایتیں کیسی

نہ پوچھ ہم سے کہ بدنام نہ وہ ہو جائےملیں خیابان برگشت میں ظلمتیں کیسی

جو ملتا ایک بار تو داستاں اپنی سناتےبعد اس کے ٹوٹیں قمر قیامتیں کیسی

— راجا اکرام قمر