8 اشعار

کسی بشر پہ نہ تیرا کوئی مقام کھلا

Kisi bashar pe na tera koi muqaam khula

کسی بشر پہ نہ تیرا کوئی مقام کھلا

«کسی بشر پہ نہ تیرا کوئی مقام کھلا» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

کسی بشر پہ نہ تیرا کوئی مقام کھلادل کے راز میں چھپا وہ پہلو عام کھلا

لبوں پہ ضبط رہا، دل میں تھا شورِ طلبنظر کے سامنے آخر وہی کلام کھلا

بچھڑ کے بھی جو رہا دل کے ساتھ ساتھ قمراسی خیال سے مجھ پر عجب دوام کھلا

ڈھلی جو رات تو آنکھوں میں تیرگی پھیلیسحر کے لمس سے لیکن وہی شام کھلا

کسی نے پوچھ لیا مجھ سے حالِ دل میراتو تیرے ذکر سے ہونٹوں پہ تیرا نام کھلا

میں عمر بھر جو رہا خود سے ہی الجھا ہواتری نظر سے مرے ہونے کا کام کھلا

جہاں بھی ڈھونڈا تجھے ہر طرف تو ہی تو تھاہر ایک راہ پہ مجھ پر نیا مقام کھلا

قمرؔ نے عشق کو چھپنے نہ دیا دنیا سےغزل کے حرف میں اس کا ہی نام کھلا

— راجا اکرام قمر