9 اشعار

اس نے سینے سے مجھے تھام لیا آخری شب

Us ne seene se mujhe thaam liya aakhiri shab

اس نے سینے سے مجھے تھام لیا آخری شب

«اس نے سینے سے مجھے تھام لیا آخری شب» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

اس نے سینے سے مجھے تھام لیا آخری شبسانس سے سانس نے پیغام لیا آخری شب

اس کی دھڑکن مری دھڑکن میں اترتی ہی رہیدل نے دل سے یہی کام لیا آخری شب

ہاتھ رکھا جو مرے ہاتھ پہ آہستہ سے اس نےلمس نے خوف کا انجام لیا آخری شب

اس کے ماتھے سے مرے ہونٹ جو چھو کر لوٹےسانس نے رک کے مجھے تھام لیا آخری شب

آنکھ نم تھی، وہ ذرا کانپ کے مجھ سے لپٹادرد نے درد سے آرام لیا آخری شب

سانس بھاری تھی تو میں نے اسے اور تھام لیاجسم نے روح کا پیغام لیا آخری شب

شام گہری ہوئی، سایہ سا بدن پر اتراوصل نے ہجر کا انجام لیا آخری شب

وہ جو کہتا تھا کہ بس آج یہ لمحہ ٹھہرےوقت نے ضد میں وہی انجام لیا آخری شب

جب روح کی تڑپ نے صبر کو توڑ دیا، گرفت ڈھیلی ہوئیقمر سانس نے بھی آرام لیا آخری شب

— راجا اکرام قمر