8 اشعار

وہ عالمِ شبِ تنہائی کا سحر نے دیکھا

Woh aalam-e-shab-e-tanhai ka sehar ne dekha

وہ عالمِ شبِ تنہائی کا سحر نے دیکھا

«وہ عالمِ شبِ تنہائی کا سحر نے دیکھا» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

وہ عالمِ شبِ تنہائی کا سحر نے دیکھااکیلے بیٹھا بلبل کو شجر نے دیکھا

کچھ بدگمانیوں نے بڑھا دیں تھیں دوریاںکچھ ایسا غرور تھا کہ نہ ہم سفر نے دیکھا

یہ داستاں پرانی ہے حسن کے دیوانے کیکاسہ لیے جوگی کو درِ درد نے دیکھا

ترے خیال کی خوشبو مرے بدن میں رہییہ معجزہ بھی فقط دیدۂ تر نے دیکھا

وہ لمس جو کبھی چھو کر بھی چھو نہ پایا مجھےاسی کو خواب کی صورت جگر نے دیکھا

کہیں سکون ملا بھی تو اک اداس سی چوٹہر ایک راحت کو آخر چشمِ تر نے دیکھا

میں اپنی تنہائیوں میں بھی تنہا نہ تھا کبھیمجھ کو ہر ایک شب مرے ساغر نے دیکھا

بلبل کے دکھ میں تو شریکِ بزم تھا قمرمگر مری اداسی کو بس شبِ قمر نے دیکھا

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں