7 اشعار

میں وہ بدبخت جو جنت سے نکالا گیا ہے

Main woh badbakht jo jannat se nikala gaya hai

میں وہ بدبخت جو جنت سے نکالا گیا ہے

«میں وہ بدبخت جو جنت سے نکالا گیا ہے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

میں وہ بدبخت جو جنت سے نکالا گیا ہےاسی جنت کی آرزو میں مرنے کی دعا کروں

کہا تھا حکمِ ازل مجھ سے، سو مٹی میں اترااب ہر اک سانس میں واپسی کا تقاضا کروں

میں نے عہدِ ازل میں ہاں کہہ کے بھی بھولا خود کواب اسی بھول کو آنسو سے شناسا کروں

جو لکھا تھا وہی ہونا تھا، یہی حکمِ ازلپھر بھی تقدیر سے کیوں اتنا میں الجھا کروں

مجھے معلوم ہے سجدہ بھی عطا سے ملتاکس غرور میں میں خود اپنے کو اعلیٰ کروں

جو بھی دوزخ ہو یا جنت، ہے تری نسبت سےتیری قربت ہو اگر، آگ کو بھی کیا کروں

میں وہ بدبخت نہیں، تُو نے جو چاہا وہ ہوںقمرؔ اپنی ہستی کو ترے نام سے زندہ کروں

— راجا اکرام قمر