7 اشعار

تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم

Tere rukh-e-zeba ki qasam, husn-e-azal ho tum

تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم

«تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تمفرصت میں خدا نے جو بنایا، وہ کمال ہو تم

دیکھوں تو ٹھہر جائے نظر، سانس بھی الجھےاک لمحۂ حیرت کا رکا ہوا خیال ہو تم

آنکھوں میں اتر کر بھی مکمل نہیں ہوتےخوابوں میں سجے کوئی نادیدہ سوال ہو تم

لفظوں میں سماؤ تو معانی بدلیں سبخاموشی میں ڈھلتا ہوا اک خیال ہو تم

دل ہار کے بیٹھا ہوں زمانے کی گلی میںجیتے ہوئے ہارے کی بس اک ڈھال ہو تم

چھو لوں تو بکھر جائے یقیں کی ساری دنیادیکھوں تو حقیقت میں بھی رمزِ کمال ہو تم

قمرؔ یہ تخیل ہے، سچ ہو کہ فسانہجو عمر کے ساتھ قائم رہے، وہی جمال ہو تم

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں