خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا
کلام: دلاور علی آزر
خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہواوہ جزیرہ جو سمندر سے نمودار ہوا
میری تنہائی نے پیدا کیے سائے گھر میںکوئی دیوار کوئی در سے نمودار ہوا
اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)
مہمان شاعر: دلاور علی آزر
خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہواوہ جزیرہ جو سمندر سے نمودار ہوا
میری تنہائی نے پیدا کیے سائے گھر میںکوئی دیوار کوئی در سے نمودار ہوا
تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تمفرصت میں خدا نے جو بنایا، وہ کمال ہو تم
دیکھوں تو ٹھہر جائے نظر، سانس بھی الجھےاک لمحۂ حیرت کا رکا ہوا خیال ہو تم