8 اشعار

تری یادوں کا یہی درد مرا سرمایہ ہے

Teri yaadon ka yehi dard mera sarmaya hai

تری یادوں کا یہی درد مرا سرمایہ ہے

«تری یادوں کا یہی درد مرا سرمایہ ہے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ضیا جالندھری» میں 6 نومبر 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

تری یادوں کا یہی درد مرا سرمایہ ہےاسی درد نے مرے دل کو بہت رلایا ہے

میں تصور میں محسوس کروں تیری قربتترے وجود کی خوشبو ہی مرا سرمایہ ہے

نہ جانے کس نظرِ کرم سے تُو نے مجھےیہ دردِ دل، یہ ہنر، یہ جنون بخشایا ہے

تری جدائی نے بخشا مجھے وہ سوزِ طلبجو ہر اک لفظ میں جل کر اُبھر آیا ہے

میں اپنے خواب لیے پھرتا ہوں ویرانوں میںتری یادوں کا ہر اک موڑ پہ سایہ ہے

کبھی ہنسا تھا بہت، آج آنکھ نم سی ہےاسی محبت نے آخر مجھے رلایا ہے

نہ شکوہ ہے، نہ گلہ، نہ کوئی دعویٰ ابجو بھی قسمت نے لکھا، وہی دل کو بھایا ہے

قمرؔ متاعِ سخن بھی اسی سے روشن ہےجو دل نے زخمِ محبت سے ہی کمایا ہے

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں