جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوں
جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوںزندہ رہتے ہوئے بھی مر گیا ہوں
ڈسنے لگتی ہے مجھ کو تنہائیمیں ترے بعد جب بھی گھر گیا ہوں
جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ
مہمان شاعر: راجا اکرام قمر
جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوںزندہ رہتے ہوئے بھی مر گیا ہوں
ڈسنے لگتی ہے مجھ کو تنہائیمیں ترے بعد جب بھی گھر گیا ہوں
وہ عالمِ شبِ تنہائی کا سحر نے دیکھااکیلے بیٹھا بلبل کو شجر نے دیکھا
کچھ بدگمانیوں نے بڑھا دیں تھیں دوریاںکچھ ایسا غرور تھا کہ نہ ہم سفر نے دیکھا
ذرا سوچو۔۔۔۔!کہ سوچ کی ہوتی آواز
اور اس آواز کے الفاظ بےشماران الفاظوں میں درد ہوتا
مائے نی مائےپھلاں دا موسم آگیا مائے
میرے ویہڑے وچ اجے وی ریہندی خزاںٹر گئے ہو جدوں دے چھڈ کے
ماہ ساون کے تھے وہ دن چارکتنے حسین، خوشبو میں بسے خوشگوار
بس اچانک ہی تمجب گھر میں میرے تھے
طلب دیدار یار، لہجے میں ضرور شیریں ہوگیذرا سوچ گفتگو طور کس قدر حسیں ہو کے
بس اک جھلک اور ہوش و حواس کھو دینانور سے روشن گئی کلیم کی جبیں ہوگی
دلکشی، انس، محبت، عقیدت اور عبادتوادی عشق میں سب تھا مگر سکوں کے سوا
عشق کی چھٹی منزل پر پہنچے تو دیکھاکچھ بھی نہ پایا وہاں پر جنوں کے سوا