8 اشعار

وہ لڑکی

Woh Ladki

وہ لڑکی

«وہ لڑکی» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

سنا ہے چمن کا گلاب تھی وہ لڑکیسنا ہے فلک کا مہتاب تھی وہ لڑکی

سنا ہے جب وہ مسکراتی تھیچاکور چاند کو چھوڑ کر اسکی طرف اڑتا تھا

سنا ہے اس کے شہر میں ایک لڑکااسے بے پناہ چاہتا تھا اس پہ مرتا تھا

سنا ہے تھوڑی سنگدل تھی وہ لڑکیسنا ہے اس لڑکے کو ملی ایک پل تھی وہ لڑکی

سنا ہے اجاڑ بیٹھا ہے خود کو وہ لڑکابے خبر رہتا ہے دنیا سے اس کے شہر میں وہ لڑکا

سنا ہے ہر شب وہ چاند کو تکتا رہتا ہےپکارتا ہے اسکو ہر رات کی سحر میں وہ لڑکا

سنا ہے اس شہر میں فاصلے پر ہیں اجڑے مزار دوسنا ہے ان مزاروں میں رہتی ہیں روحیں بیقرار دو

سنا ہے بھول گئے ہیں اب لوگ داستاں ان کیسنا ہے ہوتی نہیں محفل میں ذکر بیاں ان کی

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں