10 اشعار

وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں

Woh raah ke jis ke mod pe baitha Qamar barson

وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں

«وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوںگزرا نہ کوئی بھی وہاں سے مگر برسوں

بنا تمہارے زندگی لگی مختصر برسوںناز ضبط رہا، رہی انکھیں تر برسوں

میرے انگن میں کھڑے چپ چاپ پیپل نےہوتے دیکھا میری دعاؤں کو بےاثر برسوں

اپنی بوجھل شام کی اداس ہوا سےپوچھتا رہا میں تیری خبر برسوں

سناٹا تھا، تیرگی تھی اور بس یاد تیریکرتے رہے ہم بھی انتظار سحر برسوں

سنتے تھے دعا قبول ہوتی ہے ہر اک کی وہاںباندھے ہم نے بھی دھاگے اس شجر پر برسوں

ائے گا بس ابھی، اسی اس پرزندگی کو کہا، ایک لمحہ ٹھہر برسوں

حسین تھا، بس ذرا بیگانہ وفا تھا وہاک شخص جس نے رکھا در بدر برسوں

اتش عشق ہے تو یادیں چنگاریاں اس کیرہے دھواں، چاہے برسے ابر برسوں

تپش ھجر میں نہ کندن بنا قبر نہ راکھسزا ہی ملی ایسی، نہ ہوئی سر پرسوں

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں