6 اشعار

یوں ان کا بننا سنورنا زمانے کے لیے ہے

Yun un ka banna sanwarna zamane ke liye hai

یوں ان کا بننا سنورنا زمانے کے لیے ہے

«یوں ان کا بننا سنورنا زمانے کے لیے ہے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

یوں ان کا بننا سنورنا زمانے کے لیے ہےاس دل ناتوا ں کو جلانے کے لیے ہے

جو تم ہو وہ تم ہی یا پھر خدا جانےسر ائینہ کا حسن بس دکھانے کے لیے ہے

وہ مسکرا کر ملنا ان کا غیروں سےمحفل میں کیا ہم کو ستانے کے لیے ہے

بے خوف و خطر اؤ تم گلی میں ہمارییہاں ہر بام کھلا تمہیں بلانے کے لیے ہے

اب جو ائے ہو مزار پر ہمارے تو سن لینایہ داستان عبرت تمہیں سنانے کے لیے ہے

قمر جو لکھتا ہے سب تمہارے لیے ہےاکیلے میں تمہارے گنگنانے کے لیے ہے

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں