8 اشعار

ہر حسین چہرے سے عاشقی نہیں ہوتی

Har haseen chehre se aashiqi nahi hoti

ہر حسین چہرے سے عاشقی نہیں ہوتیہر حسین صورت تو آپ کی نہیں ہوتی

فیصلہ پلٹنے کا ابتدا میں کرتے ہیںکشتیاں جلا دیں تو واپسی نہیں ہوتی

اب جو دل لگانا تو آنکھیں کھول کر رکھناہر کسی کی فطرت میں سادگی نہیں ہوتی

عزم ہو پہاڑوں سا، سوچ آسمانوں سینوجوان لوگوں میں بے بسی نہیں ہوتی

میرے گھر کی تاریکی یہ گواہی دیتی ہےبد نصیب قبروں پر روشنی نہیں ہوتی

وقت کے تھپیڑوں سے پاش پاش ہوتا ہےجس کسی کے دل میں بھی سرکشی نہیں ہوتی

خونِ دل کے ملنے سے لفظ شعر بنتے ہیںپر سکون لمحوں میں شاعری نہیں ہوتی

ذات کی نفی کر کے رب کو پایا جاتا ہےصرف سر جھکانے سے بندگی نہیں ہوتی

— رانا احمد شہید