5 اشعار

سیاہ راتوں کے سب مسافر کبھی تو وقتِ سحر میں ہوں گے

Siyah raton ke sab musafir kabhi toh waqt-e-sahar mein honge

سیاہ راتوں کے سب مسافر کبھی تو وقتِ سحر میں ہوں گےہاں صبحِ روشن اُنہیں ملے گی قدم جنھوں کے سفر میں ہوں گے

جو زرد پتوں کا درد جانیں بہار رُت اُن کے در پہ ہوگیکھلے کھلے سبز سبز پتے انہی کے گھر کے شجر میں ہوں گے

ہے ساحلوں پر یہ جشن کیسا ہے اک ہنگامہ یہ منچلوں کاجو بھول بیٹھے ہیں بچھڑے ساتھی ابھی بھی شاید بھنور میں ہوں گے

جب آشیاں کوئی جل رہا ہو تو عین ممکن ہے اُس کے دشمنچھپے ہوئے اُسی گھر میں ہوں گے یا گھر کے دیوار و در میں ہوں گے

وہ شخص جس کے ہوں خواب ایسے کہ وسعتِ آساں سے اُونچےتمام ارفع مقام احمد اُسی کی حدِ نظر میں ہوں گے

— رانا احمد شہید