5 اشعار

اداس راہوں کا ہوں مسافر، اداس رستوں پہ چل رہا ہوں

Udaas raahon ka hoon musafir, udaas raston pe chal raha hoon

اداس راہوں کا ہوں مسافر، اداس رستوں پہ چل رہا ہوںمیں اک خوشی ڈھونڈنے کی خاطر ہزار رستے بدل رہا ہوں

حیات کی تیز دھوپ میں اک شجر کی کرتا ہوں آرزو میںمگر نہ سایہ مجھے ملا ہے بری طرح سے میں جل رہا ہوں

مرے سفر کی ہے تو ہی منزل مگر تو جانے کہاں چھپا ہےتری جھلک دیکھنے کی خاطر تڑپ رہا ہوں مچل رہا ہوں

میں وہ نہیں جو حوادثِ زندگی کے آگے یہ سر جھکا دوںمیں اس محبت کے امتحاں میں اٹل رہوں گا اٹل رہا ہوں

محبتوں کی اداس نگری میں ظلمتیں دندنا رہی ہیںمیں نفرتوں کے سیاہ بادل سے چاند بن کر نکل رہا ہوں

— رانا احمد شہید