5 اشعار

کئی قصے کئی یادیں پرانی چھوڑ جاتا ہے

Kai qissay kai yaadein purani chhor jata hai

کئی قصے کئی یادیں پرانی چھوڑ جاتا ہےوہ جب ملتا ہے اپنی اک نشانی چھوڑ جاتا ہے

بھلا مرجھائیں گے کیسے میرے دل میں وفا کے پھولمیری آنکھوں میں وہ ہر روز پانی چھوڑ جاتا ہے

میری تکمیل کا اب کوئی بھی امکاں نہیں لگتاادھوری وہ میرے دل کی کہانی چھوڑ جاتا ہے

مجھے اپنی غلامی سے نکلنے وہ نہیں دیتامیری سوچوں پہ اپنی حکمرانی چھوڑ جاتا ہے

مجھے بے چین اور بے تاب رکھنے کے لیے احمدوہ اپنی گفتگو میں کچھ معانی چھوڑ جاتا ہے

— رانا احمد شہید