5 اشعار

مجھے مری زندگی ذرا آزما رہی ہے مجھے خبر ہے

Mujhe meri zindagi zara aazma rahi hai mujhe khabar hai

مجھے مری زندگی ذرا آزما رہی ہے مجھے خبر ہےمیں جی رہا ہوں مگر مجھے موت آرہی ہے مجھے خبر ہے

یہ عزم میرے کا ہے تقاضہ ہر ایک طوفاں سے میں لڑوں گااگرچہ کشتی مری بھی کچھ ڈگمگا رہی ہے مجھے خبر ہے

مری تمناؤں کا گلا کاٹنے کی خاطر یہ میری قسمتہاں اپنے ترکش کے سارے نشتر چلا رہی ہے مجھے خبر ہے

مجھے زمانے نے دکھ دیے ہیں میں پھر بھی یہ بات کہہ رہا ہوںخوشی کہیں آس پاس ہی مسکرا رہی ہے مجھے خبر ہے

غموں کی تاریکیاں ہیں ہر سوُ مگر اندھیرا یہ دور ہوگاابھی کرن اک امید کی جگمگا رہی ہے مجھے خبر ہے

— رانا احمد شہید